اپنا صفحہ | ہم سے رابطہ کیجیے۔ |صوفی نفسیات: روح کا علم
جو کچھ تم نے سنا، دیکھا یا جانتے ہو فرید الدین عطار
ایم ٹی او شاہ مقصودی کی صوفی نفسیات سیکھنے اور سمجھنے بوجھنے کا ایک عمل ہے۔ تقریباً ایک ہزار سال کے زائد عرصہ سے گزر کر اسکی تراکیب اور طریقۂ کار حسنِ کمال تک پہنچے ہیں۔ لاشمار کتب لوگوں کی غیر معمولی صلاحیتیں اجاگر کرنے میں اسکی افادیت اور اثر پزیری کا کھلا ثبوت ہیں۔ پہلا قدم شعبداتی طور پر سادہ ہے۔ سقراط نے ڈیلفی کے مندر میں کئے گئے اس اعلان کو کہ کیوں سقراط سے بڑھ کر کوئی اور علم نہیں رکھتا کی اپنی مقدمے کے دوران صفائی پیش کی تھی۔ سقراط کو اس بات کا ادراک تھا کہ وہ اس معمہ کا حل نہیں جانتا تاہم اس نے خطابیہ جملے سے مراد یہ لی کہ بہت سے صاحبِ علم اپنی عملی کوتاہی کا اعتراف نہیں کرتے۔ بنادبریں، سب سے پہلے ضروری ہے کہ وہ شخص یہ تسلیم کرے کہ وہ کچھ بھی تو نہیں جانتا! ہمارا روز مرہ کا حصولِ علم ہماری پانچ طبعی حسوں کا مرہونِ منت ہے۔ اسطرح کا علم زندگی کے روز مرہ امور کی انجام دہی میں مفید ہوتا ہے۔ عام آدمی اپنی پانچ طبعی حسّوں کے ذریعے سیکھتا ہے۔ جہاں تک تنظیموں یا اداروں کا تعلق ہے وہ اپنے ارکان کو حقیقت کے سماجی اتفاقِِ رائے کو تسلیم کرنے کے لئے ضروری بنیاد کو جانچنے کا عمل فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح کی تعلیم صرف طبعی حلیے سے متعلق ہوتی ہے ا ور اسکا حتمی سچائی سے تعلق نہیں ہوتا۔ " طبیعاتی مشاہدے پر مبنی علم ہی دراصل حق کی تلاش میں سب سے بڑی دیوار ہے۔" سچا ادراک حاصل کرنے کے لئے اس طبیعاتی سیکھ اور ادراک کو پسِ پشت ڈالنا ہوگا۔ صوفیائے کرام اور اہلِ قدر" وجود کے ابدی منبع" ہی سے اکتسابِ علم کرتے ہیں۔ " علم صرف پڑھنے سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک ایسا نور ہے جسے خدا تعالٰے جب بھی چاہے کسی بھی دل میں منور کر دیتا ہے۔" آئیے ہم سائنسی پہلو کی روشنی میں اسے ایک تمثیل کے ذریعے جانچتے ہیں۔ عام زندگی میں جب ہم کسی بھی چیز کو مثلاً کرسی یا میز کو دیکھتے ہیں تو سمجھ جاتے ہیں کہ وہ ایک علیحدہ، ٹھوس اور ساکن چیز ہے۔ عین اسی طرح ہم اپنے آپ کو بھی دیکھتے ہیں۔ تاہم بعد میں جب ہم پارٹیکل فزکس اور کوانٹم عملیات کا مطالعہ کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہمارے تصورات غلط تھے۔ ان ذرات کی خود اپنی کوئی علیحدہ حیثیت نہیں ہوتی۔ ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ایٹم ہمہ وقت تبدیل ہوتے ہوئے چھوٹے ذرات پر مشتمل ہوتا ہے۔ " ایک ذرہ در حقیقت اپنے خاصۂ خاص میں دیگر موجودات سے تعلقات کا ایک خاص جزو ہیں۔" 3 یہ ضمنی ذرات ہمہ وقت گردش میں رہتے ہیں انکی کمیت توانائی میں اور توانائی کمیت میں تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ جب ذیلی ایٹم کی عمل کاری ہوتی ہے تو اصل ذرہ فنا ہوکر نئے ذیلی ایٹم کا روپ دھار لیتا ہے۔ اس عمل کی تعریف کلیہ اس طرح کرتا ہے کہ "یہ ایک کامیاب طبیعاتی کلیہ ہے تاہم اسکی بنیاد اس مفروضے پر ہےکہ طبیعاتی حقیقت کا لازماً کوئی اپنی عنصری حیثیت نہیں ہے۔ صرف میدانات ہی حقیقت ہیں اور دراصل یہی کائنات کا مادہ تو ہیں، لیکن مادہ کا مادہ نہیں۔ مادہ یعنی ذرات محض مختلف میدانات کی عمل کاری کا لمحاتی مظاہر ہیں۔" ہمارے لئے دماغی سوچ اور بناوٹ کو آسانی سے چھوڑنا ممکن نہیں ہوتا اور نہ ہی ہمارے لئے ذہن میں پختگی سے جمی ہوئی حدود کو پھلانگنا آسان ہوتا ہے۔ اس بات کا احساس کرنا بھی مشکل ہوتا ہے کہ " طبعی دنیا " خود مختار، موجودہ،" قابلِ تشریح " حقیقت نہیں ہے بلکہ یہ عناصر کے اپنے کُل کے درمیان تعلقات کے مطلب و معنیٰ کا دوسرا نام ہے۔ حضرت عیسٰی علیہ اسلام کا فرمان ہے کہ جنت کی بادشاہت میں داخل ہونے کے لئے ہمیں دوبارہ سے بچہ بننا پڑے گا۔ باالفاظِ دیگر ہمیں ذہنوں میں پہلے سے بٹھائے ہوئے تصورات کو نہ صرف رد کرنا ہوگا بلکہ اپنے اور دنیا کے بارے میں خود ساختہ مفروضات اور جو کچہ بھی ہم نے سیکھ رکھا ہے کو چھوڑ کر پیغمبروں کی جانب سے پیش کردہ تجرباتی علم کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ ذہن کی اختراعات، ہماری سوچیں ہمیں حق کے حصول اور اسے جاننے جانچنے سے روکتی ہیں۔ ہم اپنے ذہنی تخیٔل اور خام خیالی کو سچ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ نونہال بچوں کو اس معاملے میں اس قدر رکاوٹ پیش نہیں آتی۔ ہماری ذہنی استعداد کے باوجود انتہائی نفیس، عقلی اور تجزیاتی قیاس آرائی سے بھی " سچائی " تک پہنچا نہیں جا سکتا۔ جاننے کے لئے سب سے اہم عنصر جاننے کی خواہش کا موجود ہونا اور صدقِ دل سے سچائی کی تلاش اور لگن ہے۔ اگر ہم سچائی کو جاننا چاہتے ہیں تو ہمیں سوچنا بند کر دینا چاہیے۔ ہمیں سننے کی سیکھ اپنانی چاہیے ماضی یا مستقبل سے عاری ہو کر۔ ہمیں اپنی یاداشتوں اور امکانات سے بری ہو نا اور نتائج اخذ کرنے سے ہاتھ اٹھانا پڑیں گے۔ سالک کا کام صرف سننا ہے، واقعتاً گوش بر آواز ہونا ہے۔ بس یہی اور صرف یہی اس کا فرضِ منصبی ہے۔ لیکن سننا اسوقت تک ممکن نہیں ہو سکتا جب تک کہ ہمارے اپنے ذہن میں چٹر پٹر ہو رہی ہو۔ ہمیں سننے کے لئے اپنا انتہائی اندرونی سکوت درکار ہے اور صحیح لہری سطح پر خود کو لانا ضروری ہوگا۔ ایم ٹی او شاہ مقصودی کی نفسیات کا یہی لازمہ ہے۔ خدا ہم سے ہر وقت ہم کلام ہے لیکن ہم ہیں کہ سنتے ہی نہیں ہیں!
| واپس اوپر جائیے۔ | اپنا صفحہ | |