banner sprouts


|  اپنا صفحہ |  ہم سے رابطہ کیجیے

 

 

tulips

صوفی نفسیات: روح کا علم

صوفی نفسیات نموئی نفسیات ہے جس کا تعلّق ظاہر کے بجاے باطن سے ہے۔ اِس لیے اِسے ''روح کا علم" کہا جاتا ہے۔

لفظ "ڈیولپ" ( develop) فرانسیسی زبان سے لیا گیا ہے، جس کے معنی ہیں: لپٹی ہوئی یا بندھی ہوئی شے کو کھولنا۔ اِس کے دوسرے معنوں میں آہستہ آہستہ ترقّی کرنا، وسعت اختیار کرنا، مضبوطی حاصل کرنا، حرکت میں لانا اور بتدریج کُھلنا شامل ہیں۔

مغربی نفسیات انسانی نمو کے لیے بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ جسمانی، ذہنی اور سماجی وضاحت پر زور دیتی ہے۔ بہ الفاظِ دیگر یہ یک پہلو اور وقت پر منحصر نظریہ ہے جو ثقافت سے گہرا تعلّق ظاہر کرتا ہے۔ یہ طریقہ ہمیں یہ نہیں بتاتا کہ انسان کو ایک مثالی انسان کیسے بنایا جائے، جب کہ وہ نموئی منازل طے کر رہا ہے یا یہ کہ معاشرے کو صحیح نموئی منزل کی جانب کیسے لے جایاجائے جب کہ اِس کی اشد ضرورت ہے۔

جناب نادرعنقا نے نمو کی وضاحت کے لیے ایک بیج کی مثال لی ہے۔ درخت کا کُل دارو مدار بیج پر ہوتا ہے۔ نشو و نما پانے والے تنے، چھال، جڑوں، شاخوں، پتّیوں، پھولوں، سب کا وجود مختصر سے بیج میں شامل ہے۔ اس بیج کی نشوونما کے لیے زمین اور پانی کی ضرورت ہے۔ اگر بیج نہ اگ سکے تو کچھ نہیں ہو سکتا اور وہ بیج گل سڑ کر اپنا علم استعمال کیے بغیر بالآخر ضائع ہوجائے گا۔ اگر وہ مٹّی میں اگتا ہے تو تولیدِ مثل کرتا ہے۔ وہ خودکفیل ہے، بیج خود بخود پودا بن جاتا ہے، کیوں کہ وہ اپنے اجزا پر انحصار کرتا ہے جو اُس کے ست میں موجود ہیں۔ وہ اپنے نشو و نما میں دوسرے بیجوں کا محتاج نہیں۔ ہمیں بھی ایسا ہی ہونا چاہیے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ بیج ہمیں پتّیاں اور درخت مہیّا کرتا ہے۔ بیج کے اندر پتّیوں کی کیا شکل ہوتی ہے؟ وہ مختصر سا بیج پتّیوں کو اُن کی شکل مہیّا کرتا ہے۔ ہم نہیں جانتے، کیونکر۔ وہ خلق کرتا ہے، کیوں کہ وجود کے معنے ہی خلّاقیت ہیں۔

ہمارا اپنا بیج بھی ہے جسے ہم جان سکتے ہیں۔ وہ ہمارے جسم کے اندر موجود ہوتا ہے جو گویا اُس کے لیے زمین ہے۔ بیج کیا ہے؟ بیج ''میں" ہے، انسان کی اصل پہچان۔ اُسے دل کے اندر ڈھونڈا جا سکتا ہے۔ اُس کے لیے ماحولیاتی اسباب درکار ہیں۔ مراقبہ زمین ہموار کرتا ہے اور بیج کے لیے مناسب اسباب پیدا کرتا ہے۔ ہمارے پاس ایک ہی ''میں" ہے، ایک بیج، جس کی نشو ونما کے لیے اُس کی کاشت ضروری ہے ۔ جب آپ اُسے دریافت کریں گے تو وہ نشو ونما پائے گا اور باقی سب پر غالب آ جائے گا۔ اِس حصّے کو مذاہب خدا کہتے ہیں۔ نشو و نما پاتے ہوئے ہم تنے، پتّے، جڑ اور بیج — ہر جگہ علم کی حقیقت دیکھ سکتے ہیں۔ ہر بیج کے لیے باغباں ہوتا ہے۔ ہمیں باغباں کی بات پر کان دھرنا چاہیے۔ حق ہر شخص کے اندر موجود ہوتا ہے، لیکن یہ غور و فکر کا معاملہ نہیں، بلکہ وحی کا معاملہ ہے۔ "میں" کبھی نہیں سوچتا۔

بیج پھوٹتا ہے، اُس کی نشوونما ہوتی ہے اور آخرِ کار وہ پھول اور پھل دیتا ہے۔ جڑیں اپنی غذا زمین سے حاصل کرتی ہیں اور پودا اوپر سورج کی جانب بڑھتا ہے، جو اُس کی بقا کے لیے ضروری ہے۔ مختلف قسموں کے بیج مختلف عرصوں میں تناور بنتے ہیں۔ نارنگی کا پودا چار سال میں پھل دیتا ہے، جب کہ سیب تین سال میں، اجمود دوماہ بعد ہی استعمال کے قابل ہوجاتی ہے، لیکن کھجور کا درخت ۳۰ سال میں پھل دیتا ہے۔ پودا جب پھل دیتا ہے تب گویا اُس نے بیج کی صفت کو پورا کردیا۔ مختلف اقسام کے پودے تناور ہونے میں مختلف عرصہ لیتے ہیں۔

انسانوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہے۔ نمو اندرونی صفات کا مظہر ہے، انسان کے لیے یہ آئندہ زندگی کی تیّاری بھی ہے۔ جناب نادرعنقا ہمیں یہ تعلیم دیتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک میں ایک اندرونی قوّت موجود ہے جو صحیح راہ کی جانب ہماری رہنمائی کرتی ہے۔ ایک ترغیب ہے جو ہمیں علم و روشنی کی جانب راہ دکھاتی ہے۔ ایک بار ہم دروازے سے گزر جائیں تو ہم 'اُس' کے ساتھ ہو جائیں گے۔ جس طرح رحمِ مادر میں، آپ پھر مسلسل ساتھ ہوتے ہیں۔ آسمانی باپ تب ہمارے ساتھ ہے— خواہ ہم کچھ بھی کریں، اور کہیں بھی جائیں —کھائیں، پییں، سوئیں، کسی حال میں اُس سے جدائی نہیں۔ اگر ہم اپنی صلاحیتوں کو نمو دیں اور اپنے مقدّس محبوب، خدا سے قرب حاصل کر لیں تو پھر ہم بھی لامحدود اور ابدی ہو جائیں گے۔ حق اور جوہرِ حیات لافانی ہیں۔

اپنی تصنیف "صلح" میں حضرت پیر ہمیں بتاتے ہیں: "بچّہ جب پیدا ہوتا ہے تو کیا کرتا ہے، وہ اُس علم کو نمو دیتا ہے جو اُسے پہلے سے ودیعت کیا جاچکا ہے۔" یہ قدرت کی عطاکردہ ایک نعمت ہے۔ ہم دنیا میں ایک سادہ تختی کی طرح نہیں ہوتے ہیں۔ اپنے ہاتھ کو دیکھیں اور غور کریں کہ آپ اِس کارآمد آلے سے کیا کام لیتے ہیں۔ عضلات، ہڈّیاں اور اعصاب کو "فطری علم کے ذریعے ہدایت اور تعلیم دی گئی ہے۔" دیگر مثالوں میں ہمارے کانوں کے ذریعے آوازوں کے ارتعاشات کا تجزیہ اور اشیا میں تمیز کے لیے ہماری آنکھوں کے عدسوں کا کھلنا اور بند ہونا — دونوں موجود نظاموں کی نمو ہیں۔ ہم چلنے اور بات کرنے کے تمام آالات اور علم کے ساتھ آتے ہیں، اور غالبًا یہ بہتر ہوگا کہ ہم مؤخرالذّکر پر کم اور مقدّم الذّکر پر زیادہ عمل کریں۔

"ہر شخص مختلف خصوصیات اور فراواں صلاحیتوں کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔" بدقسمتی سے بعد میں وہ لوگ، جنھوں نے تعلیم اور نمو کے صحیح معنے جاننے کی کوشش ہی نہیں کی، بچّوں کو خاندانی، سماجی اور تعلیمی تجربوں کی نذر کردیتے ہیں اور غلط تعلیمی طریقے اُن کے جوہر اور صلاحیتوں کی نمو میں کمی کا سبب بنتے ہیں۔ رسولِ خدا محمد مصطفٰیﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: "ہر انسان سونے، چاندی یا جواہرات کی کان کی طرح ہوتا ہے۔ اُس کی صفاتِ صالحہ کو تلاش کرو تاکہ تم امن و سکون حاصل کرسکو۔" صوفی نفسیات خود میں مخفی خزانہ پانے کے لیے ارتقائی نمو کی جانب رہنمائی کرتی ہے ۔

 


|  واپس اوپر جائیے۔ |  اپنا صفحہ

©2008 Sufi Psychology Association®. All rights reserved.