banner sprouts

 

 

 

 

plant in handصوفی نفسیاتی علاج

ہمیں انسان کی ایک بیج کی سی مثال لے کر آگے بڑھنا چاہیے ۔ صوفی نفسیات صحیح نشوونما کی راہ میں حائل رکاوٹیں ہٹانے اور بیج کی مکمّل نمو کے لیے لازمی شرائط کی فراہمی پر زور دیتی ہے ۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ بیج اچّھی طرح پروان چڑھے، تو اُسے مٹّی میں مناسب اجزا اور بغیر کسی باڑھ کےکافی، نہ کہ بہت زیادہ، دھوپ کی ضرورت ہوتی ہے۔ بیج اور پروان چڑھتے پودے کو درجہ ہاے حرارت کی انتہاؤں اور آندھیوں سے بچانا ضروری ہے۔ کاشت سے پہلے زمین کو ہموار کرنا — بڑے پتّھروں کو ہٹانا ضروری ہے۔ مٹّی سے ہٹائے گئے پتّھروں سے بنی ہوئی باڑھ صدیوں کام آتی ہے۔ پرانے درختوں کو کاٹا جا سکتا ہے — اُنھیں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ایک بار جب درخت کٹ جائیں، تو جڑوں کی کھدائی سخت کام ہے۔ وہ بہت گہرائی تک جاتی ہیں۔ جھاڑیوں کی صفائی ضروری ہے تاکہ زمین دھوپ کے لیے کُھل جائے۔ پھر مٹّی میں ہل چلانا ضروری ہے ۔

باغبان کی موجودگی لازم ہے، کیوں کہ بیج کو کسی بھی وقت کاشت نہیں کی جا سکتا۔ باغبان کو کاشت کے وقت اور گہرائی کا علم ہوتا ہے۔ مختلف بیجوں کے لیے مختلف گہرائی درکار ہوتی ہے۔ گھاس پھونس کی صفائی احتیاط سے کرنی چاہیے، کیوں کہ بعض پودوں کی نشوونما بعض قسم کی گھاس پھوس کے قریب ہونے سے بہتر ہوتی ہے۔ یہ گھاس پھوس بعض کیڑوں اور سُنڈیوں کو دور رکھتے ہیں۔ ہر پودے کو پروان چڑھنے کے لیے اُس کی قسم کے مطابق پانی دیا جائے۔ اگر ضروری ہو تو سہارا دیا جائے — بعض پودوں کے لیے بیل کی ٹٹی یا جالی بنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ آخرِکار، بیش تر پودوں کو احتیاط سے چھانٹنا بھی ضروری ہوتا ہے۔

پیر نادرعنقا تعلیم دیتے ہیں کہ بیج کی تمام فطری خصوصیات: اُس کی ماحول سے مطابقت، اہلیت، اُس کے پیداواری عوامل اور اُس کے زندہ اجزا کا باہم ارتباط، جو سب کے سب اُس کی لازمی اور مسلسل شناخت پر مبنی ہیں، اُس مخصوص بیج میں مرکوز اور محفوظ ہیں۔ اگر کوئی کسی درخت کے تنے، شاخوں، پتّوں اور پھلوں پر احتیاط سے توجّہ دے اور اُس غالب طاقت و قوّت کو دیکھ سکے جس نے اُس خوب صورت درخت کی ہیئت، ڈزائن اور تمام مخفی خصوصیات کی رہنمائی کی ہے، تو وہ اُس بیج کی اصل شناخت دریافت کرسکتا ہے۔ سو کچھ ایسا ہی انسان کے ساتھ ہے۔ اِس طرح کے مشاہدات طبعی اور حسّی دریافتوں کی سطح سے کوئی تعلّق نہیں رکھتے۔

اگر ذہن بیرونی دنیا کی پیش کردہ کششوں سے پاک صاف ہوجائے اور طبعی منصوبے سے اُس کا تعلّق براے نام رہ جائے، تو وہ علم کے سرچشمے، یعنی قلب سے تأثّر پذیر ہوگا۔ ذہن کسی جِلا یافتہ آئینے مانند ہو جائے گا، جس میں قلب کی سچّائی منعکس ہو گی اور وہ جسم کی حدوں سے ماورا علم کو آشکار کرے گا۔ جب ذہن صاف آئینے کی مانند ہو جائے گا تو معلومات کا حصول حواس کے بجاے لامحدود آگاہی کے سرچشمے، یعنی قلب سے ہوگا۔

اگر ایسا نہیں ہوتا تو حاصل شدہ معلومات دراصل دماغ کے مسل بردار نظام میں مجتمع یادیں ہیں، اور خلیے میں جاری تحرّک کی بِنا پر یہ مخصوص وقت پر کسی یاد کو آشکار کر دیتا ہے۔ حصول کی حقیقت سراب بن جاتی ہے، اور کوئی جتنا خلیے کے عمل اور ردِّ عمل کی طرف مائل ہو گا، اُتنا ہی اُس کے حواس یادوں کی طرف متوجّہ ہو کر جواب دیں گے۔ جتنا ہم یادوں کو نظرانداز کریں گے، اُتنا ہی ہم پاکیزگیٔ قلب سے قریب تر ہوں گے۔ یہ زمین سے گھاس پھوس اکھاڑ پھینکنے کی طرح ہے، اور یہی بیدار قلوب کی سچّائی ہے۔ معروف صوفی استاد، پروفیسر عنقا "پیامِ دل" میں ہمیں بتاتے ہیں:

بیداریٔ قلوب اعتدال کے نقطے پر وجود کی سچّائی سے روح کی ہم آہنگی کا نام ہے۔ اگر چھہ شرائط آپ کے مزید چھہ اعمال سے متّصل ہوجائیں تو رہبری آثار آپ میں نمایاں ہوجائیں گے۔

 

چھہ شرطیں

۱۔. فکر کو مرکوز کرنا

۲۔. ضمیر کی آگہی

۳۔. خدا تک پہنچنے کے لیے صبر و استقامت

۴۔. عہد پر قائم رہنا اور ثابت قدمی

۵۔. خدا پر مکمّل توکل

۶۔. واضح فکر

 

چھہ توصیفی اعمال

۱۔. تطہیرِ ذات

۲۔. تنہائی میں مراقبہ

۳۔. تلاشِ حق میں مستعدی

۴۔. خارجی اور داخلی قوّتوں پر توجّہ مرکوز کرنا

۵۔. ثابت قدمی سے درجات طے کرنا

۶۔. سکونِ قلب کا حصول

جب کسی طالبِ علم کا دل مکمّل طور پر اِن بارہ اصولوں پر عمل پیرا ہوگا تو اُس کی زبان اور اُس کا نفس غلط کاریوں سے محفوظ ہوجائیں گے۔

 


|  واپس اوپر جائیے۔  |  اپنا صفحہ

©2007 Sufi Psychology Association®. All rights reserved.